Lahore Qalandars ownership dispute involving Fawad Rana and legal arbitration decisionA legal dispute over the ownership and control of Lahore Qalandars has reached a key arbitration decision, with further appeals expected.

پاکستان سپر لیگ کی معروف فرنچائز لاہور قلندرز کی ملکیت سے متعلق ایک اہم قانونی تنازع حالیہ دنوں میں سامنے آیا ہے، جس نے کھیلوں اور کاروباری حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ یہ تنازع دراصل ایک خاندانی کاروباری اختلاف ہے جو اب باقاعدہ قانونی فیصلے تک پہنچ چکا ہے۔

لاہور قلندرز کی فرنچائز 2015 میں خریدی گئی تھی۔ اس وقت فرنچائز کی اکثریتی ملکیت ایک کمپنی کے پاس تھی جو فواد رانا کی ملکیت تھی، جبکہ باقی حصص ان کے بھائیوں عاطف رانا اور سمین رانا کے پاس تھے۔ ابتدائی برسوں میں ٹیم کے انتظامی اور مالی معاملات باہمی اعتماد کے ساتھ چلتے رہے۔

تاہم بعد کے برسوں میں، خاص طور پر 2018 اور 2020 کے دوران، فرنچائز کے شیئرز کی منتقلی کے معاملات سامنے آئے۔ ان منتقلیوں کے نتیجے میں فواد رانا کی کمپنی کا اکثریتی کنٹرول ختم ہو گیا اور ملکیت کا توازن ان کے بھائیوں کے حق میں چلا گیا۔ فواد رانا کا مؤقف ہے کہ یہ منتقلیاں ان کی اجازت اور علم کے بغیر کی گئیں۔

فواد رانا نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں اصل صورتحال کا مکمل ادراک بعد میں ہوا، جب عملی طور پر ٹیم کے فیصلوں، مالی امور اور کنٹرول میں ان کا کردار محدود ہو چکا تھا۔ اسی بنیاد پر انہوں نے 2023 میں قانونی کارروائی شروع کی اور معاملہ ثالثی عدالت کے سامنے رکھا گیا۔

کیس کی سماعت ایک ثالثی ٹربیونل میں ہوئی جس نے تمام دستاویزات، بیانات اور شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ متنازعہ شیئر ٹرانسفر قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں تھے اور انہیں درست نہیں مانا جا سکتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اکثریتی حصص کی منتقلی بغیر باقاعدہ اجازت کے ہوئی، اس لیے یہ عمل کالعدم ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ متعلقہ فریقین کو ایک مقررہ مدت کے اندر یا تو اکثریتی شیئرز اصل کمپنی کو واپس کرنے ہوں گے یا اس کے مساوی بھاری مالی رقم ادا کرنی ہو گی۔ اس کے علاوہ عدالت نے ماضی میں حاصل ہونے والے منافع اور دیگر مالی معاملات کا مکمل حساب پیش کرنے کی بھی ہدایت دی۔

دوسری جانب، عاطف رانا اور سمین رانا نے اس فیصلے سے اختلاف کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کو قانونی طریقے سے چیلنج کریں گے۔ قانونی ماہرین کے مطابق چونکہ یہ فیصلہ ثالثی عدالت کا ہے، اس لیے اس کے خلاف اعلیٰ عدالتی فورمز سے رجوع کیا جا سکتا ہے، جہاں فیصلے کے قانونی پہلوؤں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔

اس تنازع کے ممکنہ اثرات لاہور قلندرز کی انتظامیہ اور مستقبل کی منصوبہ بندی پر بھی پڑ سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان سپر لیگ کے آئندہ سیزن کی تیاریاں جاری ہیں۔ اگر اپیل دائر کی جاتی ہے تو کیس کا حتمی فیصلہ مزید وقت لے سکتا ہے، جس کے باعث فرنچائز کے انتظامی ڈھانچے میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔

مجموعی طور پر یہ کیس پاکستان میں کھیلوں کی فرنچائزز، خاندانی کاروبار اور کارپوریٹ گورننس کے حوالے سے ایک اہم مثال بن چکا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے