Pakistan national cricket players affected by a major investment fraud involving millions of rupeesPakistan national cricket players face heavy financial losses after falling victim to an alleged investment fraud.

پاکستان کی کرکٹ دنیا سے ایک تشویشناک خبر سامنے آئی ہے جہاں لالچ اور غیر معمولی منافع کے وعدوں نے کئی قومی کھلاڑیوں کو بھاری مالی نقصان سے دوچار کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق موجودہ قومی ٹیم کے آٹھ کرکٹرز تقریباً 88 کروڑ روپے جبکہ ایک سابق بین الاقوامی کھلاڑی 90 کروڑ روپے کے قریب رقم سے محروم ہو چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ مالی دھوکا ایک خود کو سرمایہ کاری کا ماہر ظاہر کرنے والے شخص نے دیا، جو بڑی رقم سمیٹنے کے بعد ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک منتقل ہو گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کھلاڑیوں نے ایک سابق کپتان کو اس کاروبار میں سرمایہ کاری کرتے دیکھ کر اعتماد کیا، جبکہ کچھ کرکٹرز نے براہِ راست اس شخص کے ساتھ مالی لین دین کیا تھا۔

متاثرین میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق اور موجودہ کپتانوں کے ساتھ ساتھ ایک معروف کرکٹ ایجنٹ بھی شامل ہے۔ اس مبینہ اسکینڈل کے نتیجے میں کئی کھلاڑی اپنی زندگی بھر کی کمائی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدا میں سرمایہ کاری پر غیر معمولی منافع دیا جاتا رہا جس سے اعتماد مزید بڑھا، تاہم کچھ عرصے بعد مذکورہ شخص اچانک غائب ہو گیا۔ کرکٹرز نے کئی ہفتوں تک اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، چند افراد کو جزوی طور پر رقم واپس بھی ملی، لیکن گزشتہ دو ماہ سے منافع اور ادائیگیوں کا سلسلہ مکمل طور پر بند ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ مبینہ فراڈ میں ملوث شخص اس وقت امریکا میں مقیم ہے اور اس کے متعدد پاکستانی کرکٹرز کے ساتھ قریبی ذاتی تعلقات تھے۔ متاثرہ کھلاڑیوں کے مطابق اس کا موبائل فون بند ہے اور کسی بھی ذریعے سے رابطہ ممکن نہیں رہا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنے بڑے مالی نقصان کے باوجود اب تک کسی بھی کھلاڑی نے کسی قانونی فورم پر باضابطہ شکایت درج نہیں کروائی، نہ ہی ابتدا میں اس معاملے کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے علم میں لایا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے خود قومی کرکٹرز سے رابطہ کر کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔ پی سی بی چیئرمین کی جانب سے یقین دہانی کے بعد کھلاڑیوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ معاملہ جلد کسی نتیجے تک پہنچ جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے