پاکستان کرکٹ مشکل دور میں — اسٹار کھلاڑی دباؤ کا شکار پاکستان کرکٹ اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں نتائج، کارکردگی اور ٹیم کے مجموعی رویے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایک ایسی ٹیم جسے دنیا ہمیشہ ٹیلنٹ سے بھرپور مانتی رہی ہے، حالیہ دنوں میں شائقین کی توقعات پر پوری اترتی دکھائی نہیں دے رہی۔ میدان میں ہونے والی غلطیاں، دباؤ میں آنے والے فیصلے اور کارکردگی میں تسلسل کی کمی نے پاکستان کرکٹ کو ایک مشکل صورتحال میں لا کھڑا کیا ہے۔ پاکستانی شائقین کرکٹ سے جذباتی طور پر جڑے ہوئے ہیں، اسی لیے جب ٹیم یا اس کے اسٹار کھلاڑی توقعات کے مطابق پرفارم نہیں کرتے تو مایوسی بڑھ جاتی ہے۔ حالیہ مقابلوں میں یہی کیفیت دیکھنے میں آئی ہے۔ اسٹار کھلاڑیوں پر دباؤ واضح پاکستان کے مرکزی کھلاڑی بابر اعظم، محمد رضوان اور شاہین شاہ آفریدی اس وقت شدید دباؤ میں نظر آ رہے ہیں۔ یہ وہ کھلاڑی ہیں جن پر ٹیم کی کامیابی کا بڑا انحصار کیا جاتا ہے، مگر حالیہ میچز میں ان کی کارکردگی اس معیار کی نہیں رہی جو ان کی پہچان رہی ہے۔ بابر اعظم، جو اپنی شاندار بیٹنگ تکنیک اور تسلسل کی وجہ سے جانے جاتے ہیں، حالیہ میچز میں روانی برقرار رکھنے میں ناکام رہے۔ ان کے شاٹس میں وہ اعتماد دکھائی نہیں دیا جو انہیں دنیا کے بہترین بیٹرز میں شامل کرتا ہے۔ محمد رضوان، جو ہمیشہ اپنی محنت، فٹنس اور فائٹنگ اسپرٹ کے لیے مشہور رہے ہیں، بعض مواقع پر غیر متوقع انداز میں آؤٹ ہوتے دکھائی دیے۔ ان کی بیٹنگ میں تسلسل کی کمی نے ٹیم پر دباؤ بڑھایا۔ شاہین شاہ آفریدی، جو نئی گیند کے ساتھ پاکستان کا سب سے مؤثر ہتھیار سمجھے جاتے ہیں، حالیہ دنوں میں ردھم حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرتے نظر آئے۔ اگرچہ ان کی رفتار اب بھی متاثر کن ہے، مگر لائن اور لینتھ میں وہ خطرہ نظر نہیں آیا جس کی بدولت وہ میچ کا رخ بدل دیتے ہیں۔ غیر ملکی لیگز میں کارکردگی پر سوالات غیر ملکی کرکٹ لیگز میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت ہمیشہ موضوعِ بحث رہی ہے، مگر حالیہ مقابلوں میں ان کی کارکردگی نے شائقین اور تجزیہ کاروں کو مایوس کیا ہے۔ بعض میچز میں فیلڈنگ کی کمزوریاں، بیٹنگ میں جلد وکٹیں گنوانا اور بولنگ میں کنٹرول کی کمی نمایاں رہی۔ سوشل میڈیا پر ان لمحات کی ویڈیوز تیزی سے وائرل ہوئیں، جس کے باعث پاکستانی کھلاڑیوں کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال صرف تکنیکی مسائل کی نہیں بلکہ ذہنی دباؤ اور اعتماد کی کمی کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ نوجوان کھلاڑیوں کی آزمائش پاکستان کی انڈر 19 ٹیم بھی اس وقت ایک امتحانی دور سے گزر رہی ہے۔ نوجوان کھلاڑیوں میں صلاحیت تو موجود ہے، مگر بڑے ایونٹس میں دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے ان سے غلطیاں سرزد ہو رہی ہیں۔ غیر ضروری رن آؤٹس، آسان کیچز کا ضائع ہونا اور دباؤ میں جلد بازی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نوجوانوں کو مزید رہنمائی اور تجربے کی ضرورت ہے۔ یہ مرحلہ نوجوان کرکٹرز کے لیے سیکھنے کا موقع بھی ہے، کیونکہ ایسے حالات ہی کھلاڑی کو ذہنی طور پر مضبوط بناتے ہیں۔ اصل مسائل اور ماہرین کی رائے کرکٹ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کرکٹ کے موجودہ مسائل کی کئی وجوہات ہیں۔ ٹیم کمبینیشن میں بار بار تبدیلی، کھلاڑیوں پر ضرورت سے زیادہ دباؤ، سلیکشن پالیسی میں عدم تسلسل اور ذہنی کوچنگ کی کمی اہم عوامل سمجھے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر کھلاڑیوں کو اعتماد دیا جائے اور انہیں طویل مدت کے لیے سپورٹ فراہم کی جائے تو یہی ٹیم دوبارہ عالمی سطح پر شاندار کارکردگی دکھا سکتی ہے۔ مستقبل کی امید پاکستان کرکٹ کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ ٹیم مشکل حالات میں کم بیک کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ موجودہ اسکواڈ میں اب بھی ایسے کھلاڑی موجود ہیں جو کسی بھی میچ کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹیم مینجمنٹ واضح حکمت عملی اپنائے، کھلاڑیوں کو ذہنی طور پر مضبوط کرے اور نوجوان ٹیلنٹ کو درست سمت میں آگے بڑھائے۔ اگر یہ اقدامات کیے گئے تو پاکستان کرکٹ ایک بار پھر دنیا کی مضبوط ٹیموں میں اپنا مقام بنا سکتی ہے۔ پاکستان کرکٹ اس وقت آزمائش کے دور سے گزر رہی ہے، مگر یہ دور مستقل نہیں۔ درست فیصلے، صبر اور مستقل مزاجی کے ساتھ گرین شرٹس دوبارہ شائقین کو خوشیاں دے سکتی ہیں۔ پاکستانی عوام آج بھی اپنی ٹیم کے ساتھ کھڑی ہے اور امید رکھتی ہے کہ آنے والا وقت بہتر ثابت ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے