پاکستان سپر لیگ میں آکشن سسٹم کی باضابطہ منظوری: ری ٹینشن فارمولے پر پی سی بی کا فیصلہ اب آخری ہوگا ​لاہور (ویب ڈیسک): پاکستان سپر لیگ (PSL) کے ڈھانچے میں انقلابی تبدیلی لاتے ہوئے ڈرافٹ سسٹم کو ختم کر کے ‘آکشن’ (نیلامی) کی منظوری دے دی گئی ہے۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی جانب سے آکشن کی تجویز پر عملدرآمد کا فیصلہ ہو چکا ہے، جبکہ کھلاڑیوں کو برقرار رکھنے (ری ٹینشن) کے حساس معاملے پر اب پاکستان کرکٹ بورڈ خود حتمی فیصلہ سنائے گا۔ ​آکشن کے حق میں بھاری اکثریت ​ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی آکشن والی تجویز کو لاہور قلندرز سمیت پرانی پانچ فرنچائزز کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی۔ سات فرنچائزز نے آکشن کے حق میں ووٹ دیا، جس کے بعد اب پی ایس ایل کے اگلے سیزن میں کھلاڑیوں پر کروڑوں روپے کی بولیاں لگیں گی۔ جبکہ ملتان سلطان کو ابھی نئے مالکوں کی تلاش ہے ۔ ​ری ٹینشن پالیسی: پی سی بی کا فیصلہ حتمی ہوگا ​فرنچائزز کے ساتھ مشاورت کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور اب مزید کوئی میٹنگ نہیں ہوگی۔ کھلاڑیوں کو ٹیم میں برقرار رکھنے کے حوالے سے پی سی بی نے خود فیصلہ کرنا ہے کیونکہ فرنچائزز کی آراء منقسم ہیں: ​پرانی فرنچائزز کی تجویز: پانچ پرانی فرنچائزز نے تجویز دی ہے کہ ہر ٹیم کو 4 کھلاڑی ری ٹین کرنے کی اجازت دی جائے (ہر کیٹیگری سے ایک ایک کھلاڑی)۔ اس کے علاوہ ایک کھلاڑی کو نچلی کیٹیگری میں لا کر ‘برانڈ ایمبیسیڈر’ بنانے کی سہولت بھی مانگی گئی ہے۔ ​نئی فرنچائزز کا موقف: نئی فرنچائزز نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے ‘زیرو ری ٹینشن’ کا مطالبہ کیا ہے تاکہ تمام کھلاڑی آکشن پول میں دستیاب ہوں اور نئی ٹیمیں برابری کی بنیاد پر کھلاڑی چن سکیں۔ ​کھیل کا نیا طریقہ کار ​منظور شدہ تجاویز کے مطابق، نئی فرنچائزز باقی پلیئرز پول سے اسی تناسب سے کھلاڑی اٹھائیں گی جیسے پرانی ٹیموں نے ری ٹین کیے ہوں گے، جبکہ باقی تمام کھلاڑیوں کو اوپن آکشن کے لیے پیش کیا جائے گا۔ ری ٹینشن کی تعداد اور طریقہ کار پر پی سی بی کا اعلان جلد متوقع ہے جو سب کے لیے قابل قبول ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے